Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

آن لائن لڈو لوسٹوری کی تازہ ترین صورتحال

حیدرآباد(ویب ڈیسک)آن لائن لڈو کھیلتے ہوئے پاکستانی 19سالہ اقراجیوانی کا بھارتی لڑکے ملائم سنگھ سے محبت ہوجانے کی کہانی تاحال میڈیا میں گردش ...


حیدرآباد(ویب ڈیسک)آن لائن لڈو کھیلتے ہوئے پاکستانی 19سالہ اقراجیوانی کا بھارتی لڑکے ملائم سنگھ سے محبت ہوجانے کی کہانی تاحال میڈیا میں گردش کررہی ہے۔اقراجیوانی اور ملائم سنگھ کے مابین لڈوکھیلتے ہوئےپہلے بات چیت ہوتی رہی جو محبت میں بدل گئی۔حتی کہ دونوں نے ایک دوسرے سے شادی کے وعدے تک کرلئے جسکو عملی جامع پہنانے کیلئے اقرا نے گھرسے بھاگنے کی پلاننگ کی۔

اقراپہلے نیپال گئی جہاں سے وہ غیرقانونی طریقے سے انڈیا پہنچ گئی اورملائم سنگھ سے شادی بھی کرلی اوردونوں بنگلورمیں رہائش پذیر ہوگئے،مگر جب اقرا واٹس ایپ پرپاکستان کے حوالے سے کالز کیں جس پر پولیس نے شک کی بنیاد پر دونوں میاں بیوی کو پکڑ لیا،تحقیق پر معلوم ہوا کہ لڑکی پاکستانی ہے،جسے بعدازاں واگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا جبکہ ملائم سنگھ کو گرفتارکرکے جیل کا مہمان بنادیا گیا۔

اب تازہ صورتحال کے مطابق ملائم سنگھ کے گھروالے حکومت سے ملائم کی رہائی کا مطالبہ کرنے کیساتھ اپنی بہوکی واپسی کی بھی دوہائی دے رہے،اس حوالے سے ملائم سنگھ کی ماں شانتی دیوی نے میڈیا پر آکر یہ بات کی ہے کہ میرے بیٹے کو رہا کیا جائے اور میری بہو کو بھی واپس لایا جائے،ملائم سنگھ کی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری بہو چاہے کسی بھی ذات پات سے تعلق رکھتی ہو ہمیں منظورہے،دونوں خوش تھے اورہمیں بھی بچوں کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے۔

ملائم سنگھ کے بھائی نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسکے بھائی کو رہا کیا جائے اوراسکی بیوی کو بھی پاکستان سے واپس لایا جائے،ہمیں دونوں ممالک کے تعلقات کا علم ہے مگر لڑکے اورلڑکی نے تو کوئی جرم نہیں کیا صرف محبت کی ہے،جیت
لال کا یہ بھی کہنا تھا کہ لڑکی کو پاکستان بھیج دیا گیا ہے تو پھرہمارے بھائی کو کیوں جیل میں قید کیا ہوا ہے اسے بھی رہا کیا جائے۔

مذکورہ کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ والدین کم عمربچوں کو موبائل رکھنے کی اجازت کیساتھ نیٹ کی سہولت تو دے دیتے ہیں لیکن یہ نظررکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے کہ بچے نیٹ کا استعمال کیسے کررہے،جسکا نتیجہ پھر ایسا ہی سامنے آتا ہے جیسا اس خبر میں ہے،والدین کو چاہیے کہ خدارابچوں کو آزادی دیں مگر اس حد تک نہیں کہ وہ اپنی مذہبی اورعلاقائی روایات کو بھی پامال کرتے رہیں جس سے کئی خاندان متاثرہوتے ہیں اوربچوں کا اپنا مستقبل بھی دائو پرلگ جاتا ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں